11:00 , 19 اپریل 2026
Watch Live

صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران حملے کو مذہبی رنگ دینے کا اعلان کیا

ایران پر حملے

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے نے عالمی سطح پر بحث چھڑادی ہے، خاص طور پر اس وقت جب سیاسی رہنماوں نے اسے مذہبی زبان میں بیان کرنا شروع کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران پر حملے کو مذہبی جنگ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جس سے عوامی رائے اور سیاسی پیغام رسانی پر اثر پڑ رہا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب فوجی کارروائیوں کو مقدس یا مذہبی اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو سفارتی حل تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

عالمی میڈیا نے اس حوالے سے سخت تنقید کی ہے کہ انتہائی مذہبی بیانیے نے فوجی فیصلوں میں غیر ضروری مذہبی رنگ بھر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایونجلیک مسیحی گروپوں سے خصوصی دعائیں کروا رہے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی غزہ جنگ اور ایران سے متعلق مذہبی حوالوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

سیاستدانوں کا جنگ کے دوران مذہبی زبان استعمال کرنا نئی بات نہیں ہے۔ 2001 کے نائن الیون حملوں کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش نے آنے والی لڑائی کو “صلیبی جنگ” کہا تھا، مگر بڑھتے دباؤ کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس بیان سے دوری اختیار کرلی کیونکہ اس سے یہ تاثر ملا کہ امریکا اسلام کے خلاف مذہبی جنگ کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی کابینہ کا اعلان: ملکی سلامتی کے لیے ہر قسم کے اقدامات جائز ہیں

امریکی فوج میں دعوے سامنے آئے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو روحانی طور پر منتخب کیا گیا ہے اور فوجیوں کو مذہبی تقریبات اور دعاؤں کے ذریعے حوصلہ دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح نیتن یاہو نے بھی بائبل میں دشمن عمالیق کا ذکر کر کے عوام میں “ہم بمقابلہ وہ” کے جذبات مضبوط کیے ہیں، جس سے بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مذہبی بیانیہ بعض اوقات عوام کی حمایت حاصل کر سکتا ہے لیکن سیاسی سمجھوتے اور امن کے امکانات محدود کر دیتا ہے۔ اس کے پیش نظر دنیا میں بحث جاری ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران پر حملے کو مذہبی جنگ کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور اس سے خطے میں امن قائم کرنے کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION